بدھ 23 ستمبر 2026 - 23:48
اٹلی اور یورپ میں حجاب پر پابندی؛ مذہبی آزادی پر قدغن: مجمع علما و خطبا حیدرآباد دکن

حوزہ/مجمع علما و خطبا حیدرآباد دکن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اٹلی اور بعض یورپی ممالک میں مسلم خواتین کے اسلامی حجاب و پردے پر عائد یا مجوزہ پابندیوں کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ حجاب محض لباس نہیں، بلکہ مسلمان عورت کے لیے ایک دینی فریضہ، مذہبی شناخت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا مظہر ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع علما و خطبا حیدرآباد دکن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اٹلی اور بعض یورپی ممالک میں مسلم خواتین کے اسلامی حجاب و پردے پر عائد یا مجوزہ پابندیوں کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ حجاب محض لباس نہیں بلکہ مسلمان عورت کے لیے ایک دینی فریضہ، مذہبی شناخت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا مظہر ہے۔

بیان میں بتایا ہے کہ قرآنِ مجید واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾“اور مؤمن عورتیں اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں۔”(سورۂ نور، 24:31) اور ارشادِ الٰہی ہے:﴿يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ﴾“وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔”(سورۂ احزاب، 33:59) لہٰذا کسی مسلمان خاتون کو محض اس وجہ سے اپنے مذہبی لباس سے محروم کرنا کہ وہ اسلامی حجاب اختیار کرتی ہے، مذہبی آزادی اور شخصی اختیار کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں آزادی کا حقیقی مفہوم یہی ہے کہ انسان کو اپنے جائز مذہبی عقیدے اور عبادت پر عمل کرنے کا حق حاصل ہو، بشرطیکہ وہ دوسروں کے حقوق اور قانون کی خلاف ورزی نہ کرے۔

مجمع نے مزید کہا کہ ہم یورپی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلم خواتین کے مذہبی تشخص اور حجاب کے حق کا احترام کیا جائے، اور ایسے قوانین و اقدامات سے گریز کیا جائے جو کسی مخصوص مذہبی گروہ کو اس کے مذہبی شعائر پر عمل کرنے سے محروم کریں۔حجاب مسلمان عورت کی کمزوری نہیں، اس کے ایمان اور دینی اختیار کا اظہار ہے۔ مذہبی آزادی سب کے لیے ہونی چاہیے، صرف اکثریت کے لیے نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha